کاروار:12/ جولائی (ایس او نیوز) ضلع میں ایک طرف پرائیویٹ کالجوں میں طلبا کی داخلوں میں کمی نظر آرہی ہے، وہیں ضلع کی سرکاری پی یو کالجوں میں داخلے بڑھتے دیکھے گئے ہیں۔ ذرائع کی مانیں تو اترکنڑاضلع کے 37سرکاری پی یوکالجوں میں امسال 7 ہزار سے زائد طلبا کے داخلے ہوئے ہیں لیکن سہولیات کی بات کریں تو ضلع کے 9کالجوں میں طلبا کو ضروریات سے فارغ ہونے کے لئے ٹائلٹ نہیں ہیں تو 122لکچررس کی قلت تعلیم کو متاثر کرتی نظر آرہی ہے۔ شعبہ کامرس میں 35لکچررس کو منظوری ملی ہے مگر ابھی تک کسی کی تقرری نہیں ہوئی ہے۔ جہاں تک طلبا کے اندراج کی بات ہے پرائیویٹ کالجوں سے مقابلہ آرائی دیکھنے میں آرہی ہے۔
طلبا کے لئے ہائی اسکول اور ڈگری کے درمیان پی یوکالج کی پڑھائی ایک اہم مرحلہ ہوتی ہے۔ ریاست کے دیگر اضلاع سے موازنہ کریں تو اترکنڑا ضلع کی سرکاری پی یو کالجس پرائیوٹ کالجس سے آگے بڑھتے نظر آرہے ہیں۔ نتائج میں بھی ضلع کی بعض کالجس نے شاندار مظاہرہ کیا ہے۔حکومت 10سے کم داخلے والی پی یوکالجس کو بند کرنےکی جو بات کررہی ہے اس تعلق سے ضلع اُترکنڑا میں کوئی کالج ایسی نہیں ہے جس کو بند کیا جائے۔
ضلع میں کل 96پی یو کالجس ہیں جن میں 37 کالجس سرکاری ہیں، جہاں 7ہزار سے زائد طلبا نے داخلہ لیا ہے جب کہ ابھی داخلے جاری ہیں، امید جتائی جارہی ہے کہ تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔ فی الحال جو اطلاعات ملی ہیں اس کے مطابق ضلع کی 37کالجوں میں کل 13،636طلبا زیر تعلیم ہیں۔
زیادہ تر طلبا کا رحجان شعبہ کامرس میں داخلہ لینےکا دیکھاجارہاہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اسی شعبہ میں لکچررس کی زیادہ قلت کا مسئلہ درپیش ہے۔ 34کالجوں کے شعبہ کامرس میں 35لکچررس کی قلت ہے۔ ہر سال متعلقہ شعبہ میں مہمان لکچررس کی خدمات سے تعلیم دی جاری ہے۔ضلع کے بقیہ سرکاری کالجوں میں خالی اسامیوں پر نظر دوڑائیں تو کنڑا 13۔فزکس 12۔ اکنامکس 11۔ میتھا میٹکس اور بیالوجی 9۔انگلش 7-کیمسٹری 6-پالیٹکل سائنس 6-ہسٹری 5-سوشیالوجی 4اور ہندی اردو کے 2لکچررس کے عہدے خالی ہیں۔
ضلع کے 9 کالجوں میں ٹائلٹ کی سہولیات نہیں ہونے سے طلبا کے لئے کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ خاص کر طالبات بڑی پریشان ہیں۔ ان کالجوں کی نسبت سے بات کریں تو حالیہ طورپر سرکار کی جانب سے دیہی مقامات پر شروع کئے گئے کالجس ہیں۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں سرکار کو پیش کش روانہ کی گئی ہے۔
ضلع میں3 کالجس ایسے ہیں جہاں 1ہزار سے زائد طلبا زیر تعلیم ہیں۔ یہاں خاص کرکلاس روم (کمروں ) کا بڑا مسئلہ ہے۔ یہاں صبح میں شعبہ سائنس اوردوپہر میں شعبہ کامرس کی تعلیم دی جارہی ہے۔ محکمہ نے حکومت کو نئے طورپر 89کمروں کی تعمیر کی منظوری کے لئے درخواست بھیجی ہے۔ ہرسال طلبا کی تعداد میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے نئے کمروں کی تعمیر لازمی قرار دینے کے باوجودزمین دستیاب نہ ہونے اور امداد نہ ملنے کا بہانہ کیا جارہا ہے۔ طلبا اور سرپرستوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس طرح مسئلہ کو ٹالنے سے کمروں کی قسمت کے ساتھ ساتھ کہیں طلبا کانصیب بھی نہ سوجائے، اس طرف توجہ دی جائے۔